28 نومبر 2012 - 20:30

ملتان کی متعصب پولیس نے تکفیری دہشت گرد ٹولوں کی ایماء پر جلوس عزاء کے شرکاء پر توہین رسالت(ص) کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ابنا: موصولہ اطلاعات کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ملتان میں اتوار کے روز نکالے گئے عاشورائے حسینی (ع) کے جلوس عزاءکے شرکاءمیں سے 150نامعلوم اور 72نامزد عزاداران امام حسین علیہ السلام کے خلاف توہین رسالت(ص) کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔عزداران امام حسین علیہ السلام کے خلاف درج کیا گیا جھوٹا مقدمہ کوٹ عبدالحکیم کے ایک رہائشی اور کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے تکفیری دہشت گرد عبد الہادی عثمان کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔ناصبی تکفیری دہشت گرد نے شرکائے جلوس عزاءپر جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزاداران امام حسین علیہ السلام نے پتھراﺅ کیا جس کے باعث پولوں پر لگے بینرز پر پتھر لگے اور بینرز پر پیغمبر اکرم کا نام درج تھا۔واضح رہے کہ پاکستان بھر میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی تکفیری دہشت گردوں نے ہمیشہ پیغمبر اکرم (ص) کے نام کو سامنے لاتے ہوئے پاکستان کے متعدد بے گناہ شہریوں کو جھوٹے مقدمات کا نشانہ بنایا ہے جبکہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کے خلاف بھی اسی لئے جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے کہ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ جلوس عزاءمیں شریک تھے اور نواسہ رسول اکرم (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی کی یاد منا رہے تھے ۔ناصبی تکفیری دہشت عبد الہادی عثمان نے کہا ہے کہ جلوس عزاداران امام حسین علیہ السلام نے جلوس کو ناصبی دہشت گرد کی جانب سے روکنے پر کیا ۔دوسری جانب متعصب اور سعودی نواز پولیس انتظامیہ نے دفعات 295-A, 337-L2, 337-A1 and A2, 436, 427, 148 149 کے تحت توہین رسالت(ص) کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا ہے۔جبکہ ناصبی تکفیری دہشت گرد عبد الہادی عثمان کی جانب سے جلوس عزاءکو روکنے پر کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ عاشورائے حسینی (ع) کا جلوس عزاءجب عبد الحکیم کے علاقے میں پہنچا تو ناصبی یزیدی دہشت گردوں نے جلوس عزاءکو روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ راستہ جلوس عزاءکے روٹ میں شامل نہیں ہے اور ساتھ ہی شرکائے جلوس عزاءپر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا؛اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی لیکن پولیس انتظامیہ کی دہشت گردوں سے ملی بھگت کے باعث کالعدم دہشت گرد ٹولوں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔پولیس نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ جلوس عزاءکو ناصبی دہشت گردوں کی جانب سے روکا گیا اور شرکاء پر حملہ کیا گیا۔دوسری جانب سیعہ رہنماﺅں فضل شاہ اور علی حسین شاہ نے پولیس اور ناصبی دہشت گردوں کی ملی بھگت کی شدید مذمت کرتے ہوئے توہین رسالت(ص) کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں موجود متعصب ڈی پی اور اور دیگر پولیس افسران جن کا تعلق کالعدم دہشت گرد ٹولوں سے ہے، کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور جھوٹے مقدمات کو فی الفور ختم کیا جائے۔بشکریہ از شیعت نیوز ۔۔۔۔واضح رہے کہ پاکستان میں جب دہشت گرد ٹولے اہل تشیع پر حملے کرتے ہیں تو کئی دنوں تک حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج نہيں کیا جاتا یا پھر اہل تشیع کو مقدمہ درج کرنے سے روکنے کے لئے ان پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور شہداء کے وارثین کو گرفتار کیا جاتا ہے اور اگر مقدمہ درج بھی کیا جائے تو نامعلوم مسلح افراد کے خلاف درج کیا جاتا اور شیعہ مظلومین کے کہنے کے باوجود کسی کا نام نامزد ملزم کے عنوان سے ایف آئی آر میں درج نہيں کیا جاتا لیکن جب شیعہ دشمن قوتیں مقدمہ درج کرنا چاہیں تو انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110